ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عدالت عظمیٰ نے محکمہ انکم ٹیکس کی گوشمالی ، کورٹ پکنک کی جگہ نہیں ہے : عدالت عظمیٰ 

عدالت عظمیٰ نے محکمہ انکم ٹیکس کی گوشمالی ، کورٹ پکنک کی جگہ نہیں ہے : عدالت عظمیٰ 

Mon, 03 Sep 2018 12:43:03    S.O. News Service

نئی دہلی3ستمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) ایک درخواست کے زیر التوا ہونے کی بات کہہ کر عدالت کوگمراہ کرنے پر محکمہ انکم ٹیکس کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت پکنک کی جگہ نہیں ہے اور اس سے اس طرح کا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس مدن بی لوکر کی صدارت والے بنچ نے محکمہ پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے حیران ہے کہ انکم ٹیکس کمشنر کے ذریعے مرکز نے معا ملہ کو اتنے ہلکے میں لیا ہے ۔بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس نے 596 دنوں کی تاخیر کے بعد عرضی دائر کی اور تاخیر کے لئے محکمہ کی جانب 'ناکافی اور ناقابل یقین دلیلیں دی گئیں۔ اس پیٹھ میں جسٹس ایس عبدالنذیر اور جسٹس دیپک گپتا بھی شامل تھے۔ کورٹ نے محکمہ کے وکیل کو کہا کہ ایسا مت کیجئے، سپریم کورٹ پکنک کی جگہ نہیں ہے۔ کیا آپ اس طرح سے بھارت کے سپریم کورٹ سے برتاؤ کرتے ہیں۔

بنچ نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ سے اس طرح پیش نہیں آ سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ غازی آباد کے انکم ٹیکس کمشنر کی جانب سے دائر ایک عرضی میں محکمہ نے کہا کہ 2012 میں دی گئی ایک اسی طرح کی عرضی اب بھی عدالت میں زیر التواء ہے۔ بنچ نے کہا کہ محکمہ جس معاملے کو زیر التواء بتا رہا ہے، اس کا فیصلہ ستمبر 2012 میں ہی کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ دوسرے الفاظ میں کہیں تو درخواست گزاروں نے عدالت کے سامنے بالکل گمراہ کرنے والا بیان دیا ہے۔ہم حیران ہیں کہ انکم ٹیکس کمشنر کے ذریعے بھارت حکومت نے معاملے کو اتنے ہلکے میں لیا۔بنچ نے محکمہ کو چار ہفتے کے اندر اندر سپریم کورٹ قانونی کمیٹی کے سامنے 10 لاکھ روپے جمع کرانے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ روپے کا استعمال انصاف اطفال سے منسلک مسائل کے لئے کیا جائے گا۔


Share: